تبسم زیرلب

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ہلکی مسکراہٹ، زیرلب مسکرانے کا عمل۔ 'حکیم صاحب کو نہ لوگوں کے تبسم زیرلب کا احساس ہوا۔"      ( ١٩٣٨ء، ملفوظات اقبال، ١٩٣ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'تبسم' کے ساتھ فارسی سے حرف جار 'زیر' اور لب لگائے گئے ہیں۔ اس طرح یہ مرکب توصیفی بنا جس میں 'تبسم' موصوف اور 'زیرلب' صفت ہے۔

مثالیں

١ - ہلکی مسکراہٹ، زیرلب مسکرانے کا عمل۔ 'حکیم صاحب کو نہ لوگوں کے تبسم زیرلب کا احساس ہوا۔"      ( ١٩٣٨ء، ملفوظات اقبال، ١٩٣ )

جنس: مذکر